قومیت اور برادری کی شرعی حیثیت

اصل کے اعتبا ر سے نوع انسان ایک مرد اور ایک عورت کی اولا د ہونے کے باوجود مختلف قبائل اور برادریوں میں منقسم ہونا یہ ایک فطر ی عمل ہے ، ظاہر ہے کاروان دنیا چلنا تھا اور تما م نوعِ انسانیت کا ایک رنگ ایک نسل ایک زبان اور ایک علاقہ تو نہیں ہوسکتا تھا انسانیت کی بقاء کے لئے یہ امر ناگزیر تھا کہ خاندان بڑھیں اورمختلف کسب اختیار کریں یہ سب اختلافات فطری مظاہر ہیں اس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا اوراسلام بھی دین فطرت ہے اس سے منع نہیں کرتا کہ لوگ مختلف برادریوں ، علاقوں ،نسبتوں اور پیشوں سے جانے پہچانے جائیں لیکن ان تمام مظاہر کا مقصد صرف باہم متعارف ہونا اور ایک دوسرے کو پہچاننا تھاناکہ اس کے ذریعے انسانوں میں اونچ نیچ، برتر اور کمتر اور چھوٹے بڑے کے امتیازات قائم کرنا اور ناہی ایک قوم کادوسری قوم پر رنگ کی بناء پر خود کو فائق سمجھنا، ایک برادری کا دوسری برادری پر فضیلت جتانا بلکہ صرف ان قبائل اور برادریوں اور قوموں کے اختلافات کا مقصد باہم ایک دوسرے کو پہچاننا اور آ پس میں ایثار ،رواداری اور مدد کی فضا کو قائم کرناہے۔ قرآن مجید فرقان حمید میں اس کے متعلق جامع ہدایات موجود ہیں چنانچہ فرمان الہی ہے:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
“اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرداورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزّت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہےبیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے”
(سورہ حجرات:13)
مذکورہ آیت کی تفسیر میں ضیاء امت پیر کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:وطنیت ،قوم رنگ ،نسل اور زبان کے بتوں کی پوجا آج بھی اسی زور شور سے ہورہی ہے ۔ اس مختصر سی آیت میں ان تمام بنیادوں کو منہدم کر کے رکھ دیا جن پر مختلف قوموں نے اپنی بر تری اور شرافت کے ایوان تعمیر کر رکھے تھے ۔(تفسیر ضیاء القرآن جلد :4ص:200)
اگر اس آیت پر غوروفکر اور تدبر کریں تو ہمیں برادری،قومیت اوروطنیت کے متعلق جامع ہدایات ملے گیں اول تو اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ تم سب ایک مرد اور ایک عورت کی اولاد ہو، ثانی قبیلوں میں بٹنا صرف ایک دوسرے کو پہچاننے کے لئے ہے اور ثالث یہ کہ آپس میں فضیلت کا معیار پرہیز گاری اور تقوٰی ہے یعنی تم میں فضیلت کا حامل وہ ہے جو زیادہ متقی ہے ۔
اس کے متعلق حضور پرنور ﷺ کی کئی فرمودات موجود ہیں چنانچہ نبی آخر زماں محمد مصطفٰی ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا :
“أيها الناس ألا إن ربكم واحد ألا وإن أباكم واحد ألا لا فضل لعربي على عجمي ألا لا فضل لأسود على أحمر إلا بالتقوى ألا قد بلغت قالوا نعم قال ليبلغ الشاهد الغائب”
“لوگو! سن لو، تمہارا خدا ایک ہے کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی کالے کو سرخ اور کسی سرخ کو کالے پر تقویٰ کے سوا کوئی فضیلت نہیں، بے شک تم میں اللہ کے نزدیک معزز وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔ سنو! کیا میں نے تمہیں بات پہنچا دی؟ لوگوں نے عرض کی یارسول اللہ! ہاں! فرمایا تو جو آدمی یہاں موجود ہے وہ ان لوگوں تک یہ بات پہنچادے جو موجود نہیں ” (شعب الایمان جلد7،ص:132)
ایک اور مقام پر فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ، وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ إِنَّمَا يَنْظُرُ إِلَى أَعْمَالِكُمْ، وَقُلُوبِكُمْ
‘‘بے شک اللہ تمہاری صورتیں اور تمہارے مال نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دل اور تمہارے عمل دیکھتا ہے’’۔
(سنن ابن ماجہ جلد:2ص:1388)
ایک اور حدیث شریف میں ہے:
إِنَّ اللَّهَ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالآبَاءِ، إِنَّمَا هُوَ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ، النَّاسُ كُلُّهُمْ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ.
‘‘بے شک اللہ نے تم سے جاہلیت کا عیب اور غرور دور فرمایا، لوگو! تمام انسان صرف دو قسم کے ہیں۔ ایک نیک، پرہیزگار، اللہ کی نگاہ میں عزت والا۔ دوسرا فاجر بدبخت جو اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہوتا ہے۔ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو اللہ نے مٹی سے بنایا’’۔ (سنن ترمذی جلد:6ص:228)
الغر ض قرآن و حدیث میں ایسے اصولِ معاشرت بیان کئے گئے ہیں جن پر عمل کیا جائے تو دنیامیں جو ظلم و زیادتی کا بازار گرم ہے ٹھنڈا پڑ جائے امن و سکون اور شانتی کی فضا قائم ہوجائے کیونکہ اسی قومی ،نسلی اور وطنی تعصب کی بناء پرلوگوں کو تحقیروتذلیل اور ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہےاسی خود ساختہ فرق کی بناء پر انصاف کو صرف اپنوں تک پہچایا جاتا ہے اور یہی علت ہے جسکی وجہ سے سیاہ فارم پر ظلم کیا گیا یہی تعصب ہے جس نے فلسطین میں مسلمانوں کی نسل کشی کا بازار گرم کر رکھا ہے، یہی نسلی تعصب ہے کہ جس کے سہارے نوجوانو ں کو گمراہ کر کے دہشتگرد بنا دیا گیا۔ اور اسی قومیت اور وطنی تعصب کا ثمرہ ہے کہ آج بھی پڑوسی ملک میں مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دی جاتی ہیں۔
اور معاشرتی اصول جو اسلام نے بیان کئے ہیں یہ الفاظ کی حد تک نہیں بلکہ اس کا عملی نمونہ بھی پیش کیا ہے جس میں سب کو مساوانہ حقوق حاصل تھے اور کوئی بھی علاقائی ، نسلی ، قومی تخالف نہیں تھا حالانکہ ان میں ایسے قبائل تھے جو صدیوں سے ایک دوسرے کے خلاف خونریزجنگ لڑتے آرہے تھے لیکن اسلامی نظام کے تحت شیر و شکر ہوگئے اور آج بھی عملی نمونہ ریاستِ مدینہ کی صورت میں دنیا کے لئے مشعل راہ ہے ۔
سرکار دوعالم ﷺ نے ایسے معاشرہ کی تشکیل کے لئے رنگ، نسل زبان، وطن،قوم اور برادری کے تمام امتیازات اور ان سے پیدا ہونے والی ہر نوع کی عصبتوں کو باطل قرار دے دیا اور اس معاشرہ میں ہر فرد کو مساوی حقوق حاصل تھے خواہ وہ عربی ہو یا عجمی، شرقی ہویا غربی، اسود ہو یا احمر، امیر ہو یا غریب ۔
فقہاء کرام نے بھی فقہی حیثیت کے اعتبار سے لکھا ہے کہ ایک برادری کا فرد دوسری برادری کی خاتون سے نکاح کرسکتا ہے فقہاء نے کفو قرار دیاہے ۔
در مختار میں ہے :
“(وَ) أَمَّا فِي الْعَجَمِ فَتُعْتَبَرُ (حُرِّيَّةً وَإِسْلَامًا)”
عجمیوں میں آزاد اور مسلمان ہونا کفو ہے
لہذا ایک برادری کا دوسری برادری میں رشتہ کرنا درست ہے، اور تفاخر کرتے ہوے نہ کرنا یہ ناجائز اور تعلیمات اسلام کے خلاف ہے۔اس حوالے سے مفتی وقار الدین رحمۃاللہ علیہ نے لکھا ہے کہ برادری کا ایسی پابندی لگانا کہ اپنی برادری سے باہر لڑکی کی شادی نہیں کی جائیگی،غلط ہےاپنی برادری کے برابرحیثیت والی برادری یا اس سےاعلیٰ برادری میں شادی کرنے سے کوئی پابندی نہیں لگائی جاسکتی مگر جب لڑکی کے والدین راضی ہوں تو برادری اس تیسری صورت میں بھی پابندی نہیں لگا سکتی جبکہ پابندی سے خراب اثر پڑتا ہو کہ لڑکیاں بغیر شادی کیے عمریں گزار دیں تو پابندیاں لگانا گویا فتنوں کا دروازہ کھولنا ہے جو ماں باپ اپنی لڑکی کی شادی غیر برادری میں کریں ان سے تعلقات اس طرح منقطع کرنا کہ شادی بیاہ میں شریک ہونے کو ہی ممنوع قرار دیا جائے،حرام ہے کسی جائز کام پر اس قسم کی پابندی لگانے والے سخت گناہ گار ہیں ، انہیں توبہ کرنی چاہیئے حکم شریعت کے خلاف پابندی کوفورا ختم کردیاجائے۔ (وقار الفتاوی جلدسوم،ص:21)
ان تمام آیات احادیث اور فقہی اقوال سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسلام میں قومیت،وطنیت، نسل، زبان اور رنگ افضلیت کا معیار نہیں بلکہ افضل وہ ہے جو زیادہ متقی ہے ۔

0 Responses on Concept of Nationalism and Racism in the light of quran and sunnah"

Leave a Message

Your email address will not be published. Required fields are marked *

online support software