Setup Menus in Admin Panel

Qurbani

بِسْمِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالْعَاقِبَۃُ اللہِ لِلْمُتَّقِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ

فضائلِ قربانی

قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جو اس امت کے لیے باقی رکھی گئی اور نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو قربانی کرنے کا حکم دیا گیا،
ارشاد باری تعالٰی ہے :(فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انْحَرْ ؕ (۲)) (پ۳۰،الکوثر:۲)
ترجمہ: ”تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو’۔’

قربانی کی تعریف
مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیت تقرب ذبح کرنا قربانی ہے اور کبھی اس جانور کو بھی اضحیہ اور قربانی کہتے ہیں جو ذبح کیا جاتا ہے۔
(بہار شریعت ،حصہ ۱۵ ،قربانی کا بیان)
قربانی احادیث کی روشنی میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہےکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے عرض کی یارسول اﷲﷺ یہ قربانیاں کیا ہیں فرمایا کہ”تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے”لوگوں نے عرض کی یارسول اﷲ ﷺ ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے فرمایا:”ہر بال کے مقابل نیکی ہے، عرض کی اُون کا کیا حکم ہے فرمایا:”اُون کے ہر بال کے بدلے میں نیکی ہے۔ ”
(”سنن ابن ماجۃ”،کتاب الأضاحی، باب ثواب الأضحیۃ،الحدیث:۳۱۲۷،ص۵۳۱.)
ام المومنین سدتنا عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہےکہ حضور اقدس ﷺنے فرمایا کہ”یوم النحر(دسویں ذی الحجہ)میں ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے)سے زیادہ پیارا نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ اور بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کی بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل کرلیتا ہے لہٰذا اس کو خوش دلی سے کرو۔ ”
(”جامع الترمذي”،کتاب الأضاحی،باب ماجاء في فضل الأضحیۃ،الحدیث:۱۴۹۸،ج۳،ص۱۶۲.)

قربانی نہ کرنے پر وبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہےکہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا:” جس میں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔”
(”سنن ابن ماجۃ”،کتاب الأضاحی،باب الأضاحی واجبۃ ھی أم لا،الحدیث:۳۱۲۳،ج۳،ص۵۲۹.)

مرحوم مسلمانوں کے ایصالِ ثواب کیلئے قربانی کرنا
حضرت حنش سے مروی وہ کہتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دیکھا کہ دو مینڈھے کی قربانی کرتے ہیں میں نے کہا یہ کیا ؟انھوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی کہ میں حضور ﷺکی طرف سے قربانی کروں لہٰذا میں حضور ﷺ کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔
(”جامع الترمذي”،کتاب الأضاحی،باب ماجاء في الأضحیۃ…إلخ،الحدیث:۱۵۰۰،ج۳،ص۱۶۳.)

قربانی واجب ہونے کی شرائط
(۱) مسلمان ہونا۔
(۲) مقیم ہونا،مسافر پر قربانی واجب نہیں۔
(۳) آزاد ہونا۔
(۴)بالغ ہونا، نابالغ پر قربانی واجب نہیں۔
(۵)مالک نصاب ہونا: 2/1 7 تولے سونا یا 2/1 52 تولہ چاندی یا چاندی کے نصاب کے برابر رقم یا مال تجارت کا مالک ہونا۔
قربانی کے دنوں میں اگر کسی میں یہ شرائط پائی گئیں تو خواہ وہ مرد ہو یا عورت اس پر قربانی ہوگی۔
مرحومین کے ایصالِ ثواب کیلئے قربانی کرنا جا ئز ہے لیکن اگر زندہ شخص پر قربانی واجب ہے تو پہلے اپنا واجب ادا کرے ۔اپنا واجب ادا نہ کرنے کی صوارت میں گناہگار ہوگا۔
قربانی کے جانور اور انکی کم از کم عمریں
1) اونٹ: پانچ سال
2)گائے /بیل:دو سال
3) بکرا/بکری/دنبہ: 1 سال
قربانی کا جانور اپنی مقررہ عمر سے کم ہو تو قربانی نہیں ہوگی سوائے ایسا دنبہ جو 6 ماہ کا ہو مگر اتنا صحت مند اور فربہ ہو کہ دیکھنے میں 1 سال کا لگے اس کی قربانی جائز ہے۔
خصی جانور کی قربانی کرنا سنت ہے۔
کن جانوروں کی قربانی نہیں کی جا سکتی!
1) اندھا جانور خواہ پیدائشی اندھا ہو یا بعد میں اندھا ہو ا ہو۔
2) کانا جانور۔
3) لنگڑا جانور۔
4) اتنا کمزور و لاغر جانور جو چل نہ سکتا ہو۔
5) ایسا جانور جسکی دم،کان یا چکّی ایک تہائی سے زیادہ کٹی ہو یا سینگ ٹوٹے ہوئے ہوں۔اگر ایک تہائی سے کم کٹا ہو تو قربانی کی جاسکتی ہے۔
6)بکری کاایک اور گائے کے دو تھن سوکھ گئے ہوں۔
اگر کسی جانور میں بیان کردہ عیوب میں سے کوئی عیب ہو تو اسکی قربانی کرنا جائز نہیں ہے۔
قربانی کے دن اور اوقات
10 ذی الحجہ کو نماز عید کی ادئیگی کے بعد سے 12 ذی الحجہ کو غروب آفتاب سے پہلے تک قربانی کر سکتے ہیں۔
ذبح کرنے کا طریقہ
قربانی کے جانور کو قبلہ رو بائیں پہلو لٹائیں اسکے دائیں پہلو پر اپنا دایاں پا ؤں رکھیں اور یہ دعا پڑھیں:
اِنِّیۡ وَجَّھۡتُ وَجۡھِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ حَنِیۡفًا وَمَا اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ لَا شَرِيْكَ لَهٗ ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ اَللّٰھُمَّ لَکَ وَ مِنۡکَ۔۔۔
پھر “بِسمِ اللہِ اللہُ اَکبَرُ” کہہ کر تیز دھار آلہ سے اسطرح ذبح کریں کہ چار رگیں کٹ جائیں۔ ذبح کرتے ہوئے جتنے افراد جانور کی گردن پر چھری چلائیں گے سب پر ” بِسمِ اللہ” کہنا ضروری ہے۔
ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھیں
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلۡ مِنِّی کَمَا تَقَبَّلۡتَ مِنۡ خَلِیۡلِکَ اِبۡرَاھِیۡمَ عَلَیۡہِ السَّلَامُ وَحَبِیۡبِکَ مُحَمَّدًا ﷺ۔
اگر قربانی میں دوسرے لوگوں کا بھی حصہ ہے تو دعا اسطرح پڑھیں
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلۡ مِنۡ (حصہ داروں کے نام) کَمَا تَقَبَّلۡتَ مِنۡ خَلِیۡلِکَ اِبۡرَاھِیۡمَ عَلَیۡہِ السَّلَامُ وَحَبِیۡبِکَ مُحَمَّدًا ﷺ۔
افضل یہ ہے کہ جانور خود اپنے ہاتھ سے ذبح کریں اگر خود ذبح نہیں کر سکتے تو قربانی کے وقت موجود رہیں۔
جب تک جانور ٹھنڈا نہ ہو جائے اسکی کھال اتارنا یا پائے کاٹنا درست نہیں ہے۔
قربانی کی کھال یا گوشت قصائی کو بطور اجرت دینا جائز نہیں۔
قربانی کا گوشت
قربانی کا گوشت ہر مسلمان کھا سکتا ہے خواہ مالدار ہو یا فقیر۔افضل یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کرلیں۔ایک حصہ غرباءومساکین میں تقسیم کریں۔ایک حصہ دوستوں رشتہ داروں میں تقسیم کریں اور ایک حصہ اپنے گھر والوں کیلئے رکھ لیں۔اگر قربانی کا سارا گوشت اپنے گھر کیلئے رکھ لیا تو یہ بھی جائز ہے مگر قربانی کی روح کے خلاف ہے۔

مرتبہ: مفتی محمد خرم اقبال رحمانی

2 Responses on Qurbani"

  1. Muhammad Munawwar Ali says:

    اسلام کی سر بلندی کے لیے ہمیں اپنی جان ومال کی قربانی سے دریغ نہیں کرناچاہیے۔یہی فلسفہ قربانی ہے۔

  2. Hamid Raza says:

    Islam ki nashr o isha’at qurbani k zariye hui. lihaza humen kisi b tarah ki qurbani se roogardani nahi karni he. chahy wo jan ki qurbani ho , maal ki ya phir zilhajjah k maheeny me janwar k khoon bahany ki. hum islam ki khatir har qurbani k lye tayyar hen. Labbaik labbaik…..

Leave a Message

Your email address will not be published. Required fields are marked *

online support software