Setup Menus in Admin Panel

[urdu]

اِفطار کا بیان

جب غُروبِ آفتاب کا یقین ہوجائے، اِفطَار کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیئے۔ نہ سائرِن کا اِنتِظار کیجئے، نہ اَذان کا۔ فَوراً کوئی چیز کھایا پی لیجئے مگر کَھجور یا چُھوہارہ یا پانی سے اِفطَار کرنا سُنَّت ہے ۔کَھجور کھا کر یا پانی پی لینے کے بعد یہ دُعاء پڑھئے:

افطار کی دعا عموما قبل از افطار پڑھنے کا رواج ہے مگر امام اہلسنت مولینا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان نے ” فتاوی رضویہ ج۱۰ ص۶۳۱ “میں اپنی تحقیق یہی پیش کی ہے کہ دعا ء افطار کے بعد پڑھی جائے۔

اِفطار کی دُعا:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ لَکَ صُمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ۔

ترجَمہ:اے اللہ میں نے تیرے لئے روزہ رکھا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھی پر بَھرَوسہ کیا اور تیرے دئیے ہوئے رِزق سے روزہ اِفطار کیا۔ (عالمگیری ج۱ ص۲۰۰)

افطار کیلئے اذان شرط نہیں ۔ ورنہ اُن علاقوں میں روزہ کیسے کُھلے گا جہاں مساجِد ہی نہیں یا اذان کی آواز نہیں آتی ۔ مَغرِب کی اَذان نَمازِ مغرِب کیلئے ہوتی ہے ۔

اِفطار کروانے کی فضیلت:

حضرتِ سَیِّدُنا سَلْمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے کہ حُضورِ انور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ ہے :”جس نے حَلال کھانے یا پانی سے(کسی مُسلمان کو)روزہ اِفْطَار کروایا،فِرِشتے ماہِ رَمَضان کے اَوْقات میں اُس کے لئے اِسْتِغفَار کرتے ہیں اور جبرِیل (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) شبِ قَدْرمیں اُس کیلئے اِسْتِغفَار کرتے ہیں ۔ ‘ ‘ (طبرانی المعجم الکبیر ج۶ ص۲ ۶ ۲حدیث۶۱۶۲ )

روزہ دار کو پانی پلانے کی فضیلت:

ایک اور رِوایَت میں ہے ،”جو روزہ دار کو پانی پلائے گا ا للہ اُسے میرے حَوض سے پلائے گا کہ جَنَّت میں داخِل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا۔ ”(صحیح ابن خُزَیمہ،ج ۳ ص۱۹۲حدیث۱۸۸۷)
حضرتِ سَیِّدُنا سَلْمان بن عامِررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے،حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے:”جب تم میں کوئی روزہ اِفْطار کرے تو کَھجُور یا چُھوہارے سے اِفْطار کرے کہ وہ بَرَکت ہے اور اگر نہ مِلے تو پانی سے کہ وہ پاک کرنے والا ہے ۔” (جامع تِرْمذی ج۲ص۱۶۲الحدیث۶۹۵)

اِس حدیثِ پاک میں یہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ ہوسکے تو کَھجور یا چُھوہار ے سے اِفْطَارکیاجائے کہ یہ سُنَّت ہے اور اگر کھَجور مُیَسَّر نہ ہو تو پھر پانی سے اِفْطار کرلیجئے کہ یہ بھی پاک کرنے والا ہے۔
حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایت ہے”حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نَمازسے پہلے تَر کَھجو ر وں سے روزہ اِفْطَار فرماتے ،تَر کَھجوریں نہ ہوتیں تَو چند خشک کَھجوریں یعنی چُھوہاروں سے اور یہ بھی نہ ہوتیں تو چند چُلُّو پانی پیتے۔ (سنن ابوداو،د ج۲ص۴۴۷حدیث۲۳۵۶)

اِفطار کے وقت دُعاء قبول ہوتی ہے:

روزہ دار اِفْطار کے وَقت جو بھی دُعاء مانگتا ہے اللہ اُسے اپنے فَضل وکرم سے قَبول فرماتا ہے ۔ چُنانچِہ سَیِّدُنا عبداللہ بن عَمر و بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے رِوایَت ہے حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:

”اِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدِ فِطْرِہٖ لَدَعْوَۃً مَّاتُرَدُّ ”۔
(الترغیب والترہیب ج۲ص۵۳حدیث۲۹)

ترجمہ :بے شک روزہ دار کے لئے اِفْطَار کے وَقْت ایک ایسی دُعاء ہوتی ہے جو رَد نہیں کی جاتی۔”
سَیِّدُناابُوہرَیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مَروی ہے حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے ،”تین شخصوں کی دُعاء رَدّ نہیں کی جاتی(۱) ایک روزہ دار کی بَوَقتِ اِفْطَار(۲)دُوسرے بادشاہِ عادِل کی اور (۳) تیسرے مظلُوم کی۔اِن تینوں کی دُعاء اللہ بادَلوں سے بھی اُوپر اُٹھا لیتا ہے اور آسمان کے دروازے اُس کیلئے کُھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،”مجھے میری عِزّت کی قَسَم!میں تیری ضَرور مَدَد فرماؤں گااگرچِہ کچھ دیر بعد ہو۔”

(سُنَن ابنِ ماجہ ج۲ ص۳۴۹حدیث۱۷۵۲)

[/urdu]

0 Responses on Iftar"

Leave a Message

Your email address will not be published. Required fields are marked *

online support software