Hazrat Imam Hussain R.A

[urdu]

سید الشہداء، امامِ عالی مقام
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ

ولادت مبارکہ

سیدالشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت 5 شعبان 4ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔آپ کے والد گرامی خلیفہ چہارم امیر المئومنین حضرت علی المرتضٰی کرم اللہ وجہھہ اور والدہ ماجدہ خاتون جنت ،جگر گوشہ رسول حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنھا ہیں ۔حضور پرنور سید عالم ﷺ نے آپ کانام حسین اور شبیر رکھا اور آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور لقب سبط رسول اللہ اور رَیْحَانَۃُ الرَّسُوْل ہے اور آپ کے برادرِ معظم کی طرح آپ کو بھی جنتی جوانوں کا سردار اور اپنافرزند فرمایا۔

اِنَّ الحَسَنَ وَ الۡحُسَیۡنَ سَیِّدَا شَبَابَ اَھۡلِ الۡجَنَّۃِ

مقام غور ہےجو جنتی نوجوانوں کے سردار ہوں بھلا وہ اس فانی دنیا کی حکومت کیلئے کیا جنگ کریں گے!!!
حضور اقدس نبی اکرم ﷺ کو آپ کے ساتھ کمال رافت و محبت تھی۔ حدیث شریف میں ار شادہوا:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَنْ اَحَبَّھُمَا فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَمَنْ اَبْغَضَھُمَا فَقَدْ اَبْغَضَنِیْ ۔

”جس نے ان دونوں (حضرت امام حسن وامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے عداوت کی اس نے مجھ سے عداوت کی۔ ”

حُسَیۡنٌ مِّنِّی وَاَنَا مِنَ الۡحُسَیۡن

حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے

حضور سیدعالم ﷺ نے ان دونوں فرزندوں کو اپنا پھول فرمایا۔

ھُمَا رَیْحَانَیْ مِنَ الدُّنْیَا

وہ دونوں دنیا مں میرے دو پھول ہیں ۔

( ومشکاۃ المصابیح،کتاب المناقب،باب مناقب اہل البیت…الخ،الحدیث:۶۱۴۵،ج۲،ص۴۳۷)

حضور اقدس ﷺ ان دونوں نونہالوں کو پھول کی طرح سونگھتے او رسینۂ مبارک سے لپٹا تے۔

( سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب ابی محمد الحسن بن علی…الخ،الحدیث:۳۷۹۷،ج۵،ص۴۲۸)

شھادت کی خبر

حضورپرنورسید عالم ﷺ کی چچی حضرت ام الفضل بنت الحارث حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ ایک روزحضورانور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یارسول اللہ! صلی اللہ علیک وسلم آج میں نے ایک پریشان خواب دیکھا، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا؟عرض کیا: وہ بہت ہی شدیدہے۔ ان کو اس خواب کے بیان کی جرآت نہ ہوتی تھی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مکرردریافت فرمایا تو عرض کیا کہ میں نے دیکھا کہ آپ کے جسد اطہر کاایک ٹکڑا کاٹا گیا اور میری گود میں رکھا گیا۔ ارشادفرمایا :تم نے بہت اچھا خواب دیکھا، ان شاء اللہ تعالیٰ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بیٹا ہوگا او ر وہ تمہاری گود میں دیا جائے گا۔ ایساہی ہوا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے اور حضرت ام الفضل کی گود میں دیئے گئے۔ ام الفضل فرماتی ہیں: میں نے ایک روز حضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر حضرت اما م حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں دیا،کیا دیکھتی ہوں کہ چشم مبارک سے آنسو ؤں کی لڑیاں جاری ہیں۔ میں نے عرض کیا: یانبی اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ حضو رپر قربان! یہ کیا حال ہے ؟ فرمایا:جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ خبر فرمائی کہ میری امت اس فرزند کو قتل کرے گی۔ میں نے کہا: کیااس کو؟ فرمایا:ہاں اور میرے پاس ا س کے مقتل کی سرخ مٹی بھی لائے۔

(دلائل النبوۃ للبیہقی،جماع ابواب اخبار النبی…الخ،باب ما روی فی اخبارہ…الخ، ج۶،ص۴۶۸)

حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے جبریل نے خبر دی کہ میرے بعد میر ا فرزند حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ زمینِ طَفّ میں قتل کیا جائے گا اور جبریل علیہ السلام میرے پاس یہ مٹی لائے، انہوں نے عرض کیا کہ یہ (حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی خوابگاہ (مَقْتَل) کی خاک ہے۔ طف قریب کوفہ اس مقام کا نام ہے جس کو کربلا کہتے ہیں۔

( المعجم الکبیر للطبرانی، الحسین بن علی…الخ، الحدیث:۲۸۱۴،ج۳،ص۱۰۷)

اس قسم کی حدیثیں بکثرت وارد ہیں، کسی میں بارش کے فرشتہ کے خبر دینے کا تذکرہ ہے،کسی میں ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خاک ِکربلا تفویض کرنے اور اس خاک کے خون ہوجانے کو علامتِ شہادتِ اما م رضی اللہ تعالیٰ عنہ قراردینے کا تذکرہ ہے۔

حضور اکرم ﷺ کا امام حسین رضی اللہ عنہ کیلئے سجدہ کو طویل کردینا

ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نماز پڑھا رہے تھے جب آپ سجدہ میں گئے تو امام حسین رضی اللہ عنہ جو کہ ابھی بچہ تھے وہ آپ ﷺ کی پشت پر سوار ہو گئے،آپ ﷺ نے سجدہ طویل کردیا یہانتک کہ صحابہ کرام ؓ بھی پریشان ہوگئے جب امام حسین رضی اللہ عنہ پشت پر سے اترے تو آپ ﷺ نے سجدہ سے سر اٹھایا جب نماز مکمل ہوئی تو صحابہ کرام ؓ نے آپ ﷺ سے استفسار کیا یا رسول اللہﷺ! کیا سجدے طویل کرنے کا حکم آگیا ہے؟یا آپ ﷺ پر دوران سجدہ وحی نازل ہو رہی تھی؟ آپ ﷺ مسکرائے اور فرما یا نہ تو سجدہ طویل کرنے کا حکم آیا ہے اور نہ مجھ پر وحی نازل ہو رہی تھی بلکہ میرا بیٹا حسین میری پشت پر سوار ہو گیا تھا میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ میں سر اٹھاءوں اور میرا بیٹا گر جائےاسی لئے میں نے سجدہ طویل کردیا۔ سبحان اللہ
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو معمولی سی تکلیف پہنچنا بھی حضور ﷺ کو گوارا نہیں تو جب ظالموں نےمیدان کربلا میں آپ ﷺ کے اس پیارے نواسے کو تیروں ،تلواروں اور نیزوں سے شدید ترین زخمی کر کےگھوڑے سے گرایا ہوگا اسوقت آپ ﷺ کو کتنی تکلیف ہوئی ہوگی!!!!! جب امام حسین کے سر کو جسم اقدس سے جدا کر کے نیزے پر بلند کیا ہوگا اسوقت قلب رسول ﷺ پر کیا گزر رہی ہوگی!!!!!!
10 محرم الحرام بروز جمعۃ المبارک 60 ھ رسول اللہ ﷺ کے اس پیارے نواسے کوحالت سجدہ میں نہایت بے درددی اور سفاکی کے ساتھ شہید کردیا گیا۔ قلب میں اتنی ہمت نہیں کہ اس منظر کے متعلق مزید کچھ بیان کر سکے۔ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیۡہِ رَاجِعُونَ

میدان کربلا میں امام حسین رضی اللہ عنہ آپ کے خانوادہ اور آپ کے اصحاب کی لازوال قربانی نے قیامت تک کہ مسلمانوں کو یہ درس دیا کہ ظلم اور ظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئےباطل کے سامنے کبھی سر نہیں جھکانا چاہئے۔راہِ حق پر پایہ استقلال میں ذرہ بھر لغزش نہیں آنی چاہئے۔
اے کاش ہم بھی امام حسین کی طرح دین اسلام کی سربلندی ،بقا اور تحفظ کیلئےایسی عظیم الشان قربانی پیش کرسکیں!

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

مرتبہ :ابو حمزہ مفتی محمد خرم اقبال رحمانی

[/urdu]

online support software